بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات

تحریر،خلیل رونجھو

ہمارے ہاں جتنے بھی حیوان ہیں ان سے بڑھ کرانسانوں کے روپ جوجنسی درندے گھوم رہے ہیں وہ زیادہ خطرناک ہیں،ہمارے وطن عزیز میں روز بروز ایسے ایسے خوفناک حقائق و واقعات سامنے آتے ہیں جن کو شیطانیت و درندگی کے کھلے مظاہرے کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا،زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ہوس کے پجاریوں نے معصوم بچوں کو بھی نہ چھوڑا۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے ایسے ایسے دل دہلا دینے والے سانحات رونما ہوتے ہیں، جن کو لکھتے ہوئے قلم بھی تھرتھرا اٹھتا ہے میں کافی دیرسے ایسے آرٹیکل لکھنے کی کوشش کررہاتھا مگرہاتھ ساتھ نہیں دیتے کیونکہ بچے تومعصوم ہوتے ہیں میں ان کے بارے میں لفظ لکھتے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں مگروہ کیسے حیوان ہیں جو ان معصوم بچوں کو حوس کانشانہ بناڈالتے ہیں جن کی عمر بمشکل 5سال،6سال7سال11سال12سال بلکہ کوئی بھی ایسی عمرنہیں جس میں بچہ محفوظ ہو۔


بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں ان دنوں جنسی درندے تیزی کے ساتھ معصوم بچوں کو اپنا شکار بنا رہے ہیں جہاں گزشتہ صرف 15 دنوں کے اندر بچوں کے ساتھ جنسی تشدد و ہراسگی کے چار واقعات رونما ہوچکے ہیں میڈیا رپورٹ کے مطابق پہلے واقع میں دارو ہوٹل حب کے مقام پر ملزم نے مبنیہ طور پر ایک بارہ سالا بچے کو بے ہوش کرکے زبردستی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا بھر ثبوت کو مسمار کرنے کے لیے تیزاب سے جھلسا دیا ہے، ملزم گرفتار ہے پولیس نے طبعی تصدیق کے بعد مقدمہ درج کرکے تفتش شروع کردی ہے،دوسرا واقعہ بیلہ شہر میں پیش آیا جہاں ایک آٹھ سالا بچی کو مندر میں ایک شخص نے جنسی ہراساں کیا جس کے بعد بچی بھاگنے میں کامیاب ہوئی اور انہوں نے والدین کو اس صورتحال سے اگاہ کیا جس کے بعد والدین اور ہل محلہ نے سی سی ٹی وی کیمرے کے ذریعے شناخت کے بعد ملزم کو پکڑ کر تشدد کیا، اس کے بعد جرگہ کے فیصلہ کے بعد ملزم کو علاقہ بدر کردیا گیا،تیسرا واقعہ اکرم کالونی حب میں پیش آیا جہاں گلی سے گزرتی ہوئی نو سالا بچی کو ایک شخص نے بہلا سلا کر اپنے رہائشی کوارٹر میں لے جاکر جنسی تشدد کا نشانہ بنایا،بچی کے چیخ و پکار کے بعد اہل محلہ نے ملزم کو تشدد کے بعد پولیس کے حوالے کردیا پولیس نے طبعی تصدیق کے بعد مقدمہ درج کرکے تفتش شروع کردی ہے چھوتا واقعہ چیزل آباد حب میں پیش آیا جس میں ایک 73 سالہ شخص نے مدرسہ جاتی ہوئی تیرا سالہ بچی کو بہلا پھسلا کر اپنی رہایشی کوارٹر میں لے جا کر پنی حوس کا نشانہ بنایا،بچی کی چیخ و پکار کے بعد اہل محلہ نے تشدد کے بعد ملزم کو پولیس کے حوالے کردیا،پولیس نے طبعی تصدیق کے بعد مقدمہ درج کرکے تفتش شروع کردی ہے


ان تمام واقعات کا جائزہ لیں تولسبیلہ کی صورتحال بہت سنگین ظاہر ہوتی ہے،پہلے واقعہ میں ملزم نے مبینہ طور پر جنسی ہوس کے لیے تشدد کا سہارا لیا اور بچے کو بے ہوش کرکے جنسی تشدد کیا جس میں یقینا وہ بچہ اپنے دفاع کے لیے کچھ بھی نہیں کرسکتا تھا لیکن والدین نے اس مبینہ واقعہ کی پولیس کو کافی دن بعد اطلاع دی جس سے والدین کی طرف سے کیس میں کسی حد تک غیر سنجیدگی کا عمل ظاہر ہوتاہے،


بیلہ کے کیس میں آٹھ سالا بچی نے جنسی درندگی سے بچنے کے لیے کمال ہوشیاری کا مظاہرہ کیا اور ملزم کے چنگل سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئی اور والدین کو اس صورتحال سے فوری طور پر آگاہ کیا اس واقعہ میں بچی کی بہادری کے ساتھ ساتھ والدین کے مثبت کردار کی بھی سراہنے کی ضرورت ہے کہ انہوں نے اس واقعہ پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے فوری ایکشن کرتے ہوئے ملزم کو پکڑ لیا
،اس تمام تر واقعہ کے بعد اہل محلہ کی طرف سے جرگہ کے فیصلے کے مطابق ملزم کو علاقہ بدر کرنے کے بجائے قانون گرفت میں دینا چاہیے تھا،دوسری طرف پولیس کی اس واقعہ سے لاتعلقی بھی بیلہ پولیس کی غفلت پر سوال اٹھادیتی ہے


حب شہر کے اکرم کالونی اور چیزل آباد کے واقعات میں کم عمر بچیوں کو بہلا پھسلا کر ملزمان اپنی رہایشی کوارٹرز میں لے گئے جہاں پر جنسی تشدد کے دوران چیخ و پکار کے بعد اہل محلہ نے ملزمان کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہے،ان بالا دو واقعات میں اگر بچیاں ملزمان کے بہلا وپھسلنے کے عمل میں نہیں آتی توکسی حد تک ممکن تھا کہ ملزم اپنی ناپاک حرکت میں کامیاب نہ پاتا مگر بچیوں کی عدم تربیت کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو درندوں سے بچا نہیں پائی،،ملک میں بچوں پر جنسی تشدد کے بڑھتے واقعات سے بچاو کے لیے یہ بات اب روز پکڑتی جاتی ہے کہ کم عمر بچوں اور بچیوں اس طرح کے جنسی درندوں سے بچاو کے لیے اگاہی دینا ضروری ہے کسی بھی انجان شخض کے ساتھ کسی بند جگہ جانے سے گریز کریں،اور خطرے کی صورت میں مدد طلب کریں


،اس سلسلے میں چائلڈ پروٹیکشن کے ماہرین کہتے ہیں کہ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو اس حوالے سے مکمل اعتماد میں لیں کہ وہ دن میں کسی بھی اجنبی سے ملیں تو اس کا ذکر کھل کر آپ سے کریں۔ انہیں پیار سے سمجھائیں کہ کوئی بھی اجنبی شخص آپ سے آپ کا نام، امی ابّو کا نام یا گھر کا پتہ پوچھیں تو ہرگز انہیں نہ بتائیں۔ ان کے روزانہ کے معمولاتِ زندگی کے حوالے سے دریافت کریں۔ بچوں کو یہ سمجھائیں کہ آپ نے اسکول آتے جاتے، بازار یا کہیں اور جاتے ہوئے کس قسم کے لوگوں سے بات کرنی ہے اور کس قسم کے لوگوں سے بات نہیں کرنی ہے۔ ہمیشہ اپنے ہم عمر بچوں سے دوستی کریں، ان کے ساتھ کھیلیں کودیں اور اگر ان سے بڑی عمر کا لڑکا یا لڑکی دوستی کی آفر کریں تو فوراً اسے رد کر دیں۔ اگر خدانخواستہ کوئی بھی اجنبی شخص انہیں کوئی ٹافی، تحفہ یا کوئی اور چیز دے تو ان سے ہرگز نہ لیں اور ایسے لوگ کسی پارک، باغ یا کسی اور جگہ گھومنے کے بارے میں کہیں تو ان کے ساتھ مت جائیں۔ اگر ایسے لوگ کسی بھی جگہ آپ سے زبردستی کریں یا آپ کو اٹھا کر کہیں لے جانے کی کوشش کریں تو زور زور سے شور مچائیں اور مدد کے لیے پکاریں۔ بچوں کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ اگر اسکول یا مدرسے سے چھٹی ہوتی ہے تو اپنے دیگر کلاس فیلوز کے ساتھ ہی وہاں سے نکلیں۔ اگر پڑھانے والا شخض آپ کو اکیلے میں مزید رہنے کا کہے تو انکار کر دیں اور گھر کی طرف نکلیں۔


حالیہ رپورٹ کے مطابق یومیہ گیارہ بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ماہرین نے اس امر پر افسوس کیا کہ جنسی استحصال کا شکار ہونے والے بچوں کی درست تعداد سرے سے دستیاب ہی نہیں کیونکہ سماجی شرم و حیا کی وجہ سے اکثر واقعات سامنے نہیں لائے جاتے جسکی وجہ سے مجرمان بھی سزا سے بچ جاتے ہیں۔ جائزہ رپورٹ کے مطابق جنسی زیادتی بچوں کے ذہنوں پر ایسے نفسیاتی زخم چھوڑتی ہے جس سے اِن کی شخصیت نہ صرف جارحانہ ہو جاتی ہے بلکہ وہ ذہنی تناوکا شکار ہو کر منشیات اور بعض اوقات خودکشی کا راستہ اپنانے پر مجبور ہو جاتے ہیں


بلوچستان میں چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ 2016 میں منظور ہوا ہے مگر اس پر تھوڑا بہت عملدرآمد تین سال بعد کیا گیا ہے جس میں روان سال پہلا چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کوئٹہ میں قائم کیا گیاہے،اس ادارے کا بنیادی مقصد تشدد و زیادتی کے سامنا کرنے والے بچوں کو قانونی وسماجی تحفظ فراہم کرنا ہے،بلوچستان میں بدقسمتی سے جتنے ہی اس طرح کے ادارے ہیں وہ کوئٹہ سے باہر نکلے ہی نہیں ہیں،حکومتی اداروں کے ساتھ چائلڈ پروٹیکشن کے جتنی بھی غیر سرکاری اداروں کے پروجیکٹس ہیں وہ صرف کوٹۂ شہر میں موجود ہیں حتاکہ کوئٹہ کے بعد حب شہر وہاں بڑا شہر ہے جہاں پر چائلڈ لیبر بہت زیادہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہاں بچے عدم تحفظ کا شکار ہیں اور اس طرح کی جنسی و جسمانی زیادتیوں کاشکار ہوتے ہیں،اس موقع پر وزیراعلی جام کمال خان سے التماس ہے کہ فوری طور پر محکمہ سماجی بہبود کو حب شہر میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے قیام کا عمل میں لانے کے احکامات جاری کریں تاکہ حب شہر میں
اس طرح کے واقعات میں متاثرہ بچوں اور والدین کی قانونی اور سماجی مدد فراہم کی جاسکیں،اس طرح یونیسف سمیت دیگر اداروں جو کہ ملک میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرتے ہیں وہ لسبیلہ میں اپنے پروگرام کو وسط دیں تاکہ حکومتی اور غیر حکومتی کوششوں سے لسبیلہ میں بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے


لسبیلہ میں بچوں کے حالیہ زیادتیوں کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے معاشرے کے تمام طبقات کو اپنی موثر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، آنے والی نسلوں کو محفوظ رکھنے کیلیے ہر معاشرے میں ایک مربوط نظام ترتیب دیا جائے۔ جس میں ہر طبقہ اپنا کردار ادا کرے،پاکستان میں علما، جو بہرحال ایک پلیٹ فارم رکھتے ہیں، اور این جی اوز آگاہی مہم چلائیں،میڈیا کے دوست اس میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ والدین اور اساتذہ کا کردار تو بنیادی ہے،ویڈیوز کی شکل میں نصاب ترتیب دیا جائے اور بچوں پر کسی بھی قسم کا تشدد ناقابلِ معافی جرم قرار دیا جائے۔ کیونکہ کسی بھی قوم کا مستقبل تو بچے ہی ہوتے ہیں،پاکستان میں بھی ان درندوں کو زندہ رکھ کر ایسی سزائیں دی جائیں کہ یہ دوبارہ کسی بچے تو کیا بڑے کے ساتھ بھی زیادتی نہ کرسکیں۔ معاشرے کے ہر فرد کا فرض ہے کہ اپنا کردار جس حد تک ہو پورا کرے کیونکہ قانونی ادارے پوری دنیا میں چائلڈ پورنوگرافی کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں۔ اسی لئے یہ صرف قانون کی نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کردار کیسے ادا کر سکتا ہے۔ پیچھے نہ رہئے بچے سب کے لئے ایک جیسے ہوتے ہیں۔ اپنے حصے کا کام ضرور کیجئے,۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like these